رانچی،17نومبر(آئی این ایس انڈیا)جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں ٹکٹ کی تقسیم کو لے کر گھماسان شروع ہو گیا ہے۔پارٹی کے سینئر لیڈر اور حکومت میں خوراک فراہمی وزیر سریو رائے نے باغیانہ تیور دکھاتے ہوئے اعلان کردیا کہ انہیں بی جے پی کا ٹکٹ نہیں چاہئے۔
سریو رائے وزیراعلی رگھوندرداس اور حکومت کے ناقد مانے جاتے ہیں۔بی جے پی نے ہفتہ کو امیدواروں کی چوتھی فہرست جاری کی تھی۔اس لسٹ میں تین امیدواروں کے نام کا اعلان کیا گیا۔اس کے ساتھ ہی بی جے پی کی اتحادی رہی آجسو (آل جھارکھنڈ اسٹوڈینٹس یونین) پارٹی نے بھی ایک اور فہرست جاری کر دی ہے۔بی جے پی نے سینئر لیڈر سریو رائے کو اب تک ٹکٹ نہیں دیا ہے۔بی جے پی کی چوتھی فہرست میں بھی سریو رائے کا نام ندارد رہا۔
ریاست میں اس بات کی بحث زوروں پر ہے کہ کہیں سریو رائے کا ٹکٹ کٹ تو نہیں گیا۔ایسے میں اگر سریو رائے آزاد الیکشن لڑتے ہیں تو جمشید پور مشرقی سیٹ پر ان کے سامنے وزیر اعلی رگھووندرداس ہوں گے۔سریو رائے فی الحال جمشید پور مغربی حلقہ سے بی جے پی ممبر اسمبلی ہیں۔ادھر تمام قیاس آرائیوں اور سیاسی اتھل پتھل کے درمیان وزیر سریو رائے ہفتہ کو جمشید پور مشرقی اسمبلی کے ٹیلکو میں واقع بھونیشوری مندر پہنچے۔سریو رائے نے ہفتہ کو صاف کر دیا کہ جمشید پور مغربی سیٹ سے بی جے پی کے ٹکٹ میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنے فیصلے سے پارٹی کے اعلی لیڈروں کو آگاہ کیا ہے۔
بی جے پی کی جانب سے جاری چوتھی فہرست میں جگسلای سیٹ سے موتی رام باڑی کو میدان میں اتارا گیا ہے، جہاں سے ریاست کے آبی وسائل وزیر اور آجسو کے ممبر اسمبلی رام چندر سہس انتخابی میدان میں ہیں،دو دن قبل ہی آجسو نے ریاست کے بی جے پی کے کوٹے کے کھیل اور ثقافت وزیر امر کمار باڑی کے خلاف چندن کیاری سے اپنا امیدوار اتار کر بی جے پی کو چیلنج کیا تھا۔اس کا جواب ہفتہ کو بی جے پی نے اپنی چوتھی فہرست سے دیا۔بی جے پی نے جگن ناتھ پور سیٹ سے سدھیر سڈی اور تماڑ سے ریتادیوی منڈوا کو امیدوار بنایا ہے۔